1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

ٹی وی چینلز پر جرائم کی ڈرامائی تشکیل پر پابندی عائد

'حالات حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از تجمل حسین, ‏مئی 21, 2016۔

  1. اسلام آباد: پیمرا نے یکم رمضان المبارک سے جرائم کی ڈرامائی تشکیل والے پروگراموں کے نشر کرنے پر پابندی لگا دی۔ چیئرمین پیمرا ابصارعالم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے آغازسے تمثیل نگاری پر مبنی پروگرام روک دیئے جائیں گے اور ٹی وی چینلز پر جرائم کی ڈرامائی تشکیل والے پروگرام نہیں چلائے جائیں گے، خودکشی کے مناظر، زیادتی کے شکار شخص کے انٹرویوز اور تصویر دکھانے پر پابندی ہوگی جبکہ انٹرٹینمنٹ چینلز پر بھی قتل کی کوئی واردات نہیں دکھائی جاسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے آغاز سے اس برائی سے جان چھڑا لیں گے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ٹی وی چینلز کو ایک ماہ کے لئے بند کر دیا جائے گا۔ چیئرمین پیمرا کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران ٹی وی چینلز جیسے چاہیں پروگرام نشرکریں لیکن ماہ مقدس کے تقدس کا خیال رکھیں، امید ہے کہ ٹی وی چینلز ریٹنگ کے بجائے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال رکھیں گے۔ پیمرا چیئرمین نے کہا کہ اگر کوئی ٹی وی چینل واضح احکامات کے باوجود ایسے پروگراموں پر پابندی عائد نہیں کرتا تو پہلے مرحلے میں اس ٹی وی چینل کا لائسنس ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا جائے گا۔ ابصار عالم کا کہنا تھا کہ اگر اس عرصے کے دوران کسی بھی ٹی وی چینل نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو پھر اس ٹی وی چینل کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹی وی پر چلنے والے پروگراموں میں جرائم کی دوبارہ منظر کشی کی وجہ سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ابصار عالم کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ متعدد سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انھوں نے جرائم کے نت نئے طریقے مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والے پروگراموں میں جرم کی دوبارہ منظر کشی سے سیکھے ہیں۔ چیئرمین پیمرا نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹنگ کی آئینی اور صحافتی اصولوں کے مطابق اجازت ہوگی اور اس کے لیے شرائط وضوابط طے کیے جا رہے ہیں جو جلد ہی جاری کردیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران ٹی وی چینلز پر بعض پروگراموں کے حوالے سے شکایات پر پیمرا نے تمام چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوئی ایسا پروگرام نشر نہ کریں جس سے کسی بھی شخص کی تضحیک یا شخصی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ ابصار عالم کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹ براڈکاسٹ سیٹلائیٹ پاکستان میں جلد ہی شروع ہو رہی ہے جس کے بعد غیر قانونی بھارتی چینلز بند کیے جا سکیں گے۔

    ماخذ۔ اردو ٹائمز
     
    بینا اور زبیر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    ایسے پروگراموں پر تو مکمل پابندی ہونی چاہیے ۔
     
    بینا اور تجمل حسین .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. جی بالکل۔ اب پیمرا نے ایکشن شروع تو کیا ہے دیکھتے ہیں ٹی وی چینلز والے کیا رد عمل کرتے ہیں :)
     
    زبیر نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    اس طرح کے پروگرام مجھے سماء ٹی وی پر کچھ زیادہ ہی نظر آئے ہیں۔
     
    تجمل حسین نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. محمد یاسرکمال

    محمد یاسرکمال یونہی ہمسفر

    جی ہاں!یہ ویڈیوز واقعی میں بہت کچھ سکھا رہی ہیں،اور ان کے اثرات زیادہ ترمنفی ہی ہیں۔
    لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ اس سے آگاہی بھی پھیلتی ہے جیسے کہ ہم دھوکے باز لوگوں کے دھوکوں سے اپنے آپ کو کیسے بچا سکتے ہیں،خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ان ویڈیوز میں بہت سے سبق موجود ہیں۔
     
    زبیر نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. درست کہا۔ مگر ہم عوام زیادہ تر ان کو صرف تفریح کے لیے دیکھتے ہیں یا پھر مجرم لوگ جرم کے مزید طریقے سیکھنے کے لیے۔ ان کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ مجرموں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس طریقہ سے ہم پھنس جائیں گے تو وہ کوئی دوسرا طریقہ استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور پھر ان ویڈیوز میں بچنے کے طریقوں سے زیادہ سنسنی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ چینل کی ریٹنگ بڑھائی جاسکے۔ حالانکہ اگر جرم سے بچنے کے طریقے بتانے ہوں تو دوسرے بہت سے پروگرام پیش کئے جاسکتے ہیں جن میں صرف بچاؤ کا طریقہ بتایا جائے نا کہ جرم کرنے کا۔۔
     
    زبیر اور بینا .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    یہ سارے پروگرام زیادہ تر چینل کی ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ بھی ہیں اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے لئے مددگار بھی کہ ان کو نئے نئے جرائم کے طریقے سیکھائے جاتے ہیں ، چاہے غیر شعوری طور پر ہی سہی لیکن بہت حد تک یہ پروگرام مجرموں کو جرم کے نت نئے طریقے سے روشناس کراتے ہیں ۔ میرے خیال میں ایسے سب پروگراموں پر پابندی ہونی چاہیئے۔
     
    زبیر اور تجمل حسین .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. شکریہ۔ یہی میری رائے ہے۔
    اب پیمرا نے کچھ نہ کچھ قدم اٹھایا تو ہے دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ ڈیجیٹل کیبل آرہی ہے جسے کیبل آپریٹرز کنٹرول نہیں کرسکیں گے۔ اور کسی بھی چینل کو بلاک نہ کرسکیں گے۔
     
    بینا نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. محمد یاسرکمال

    محمد یاسرکمال یونہی ہمسفر

    یوٹیوب پر اس طرح کے بے تحاشا پروگرامز اپ لوڈ ہو چکے ہیں۔ اور پاکستانی پروگرامز اگر بند بھی ہو جائیں تو انڈین پروگرامز ہی کسر پوری کرنے کے لیے کافی شافی ہوں گے۔
     
    تجمل حسین اور زبیر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    یوٹیوب دیکھنے والوں کو تعداد ٹی وی دیکھنے والوں کی تعداد سے بہت کم ہو گی اس لئے میں پھر درج بالا بات دہرانا چاہوں گا کہ ایسے پروگراموں پر مکمل پابندی ہو نی چاہیے۔
     
    تجمل حسین نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. بالکل درست۔ جس قدر ہوسکے اس قدر عوام کو بچانا چاہیے۔ باقی رہی یوٹیوب اور انٹرنیٹ کی بات ۔ تو جو شخص جرائم کے طریقوں کی تلاش میں ہو اسے انٹرنیٹ سے نہ سہی اپنے جیسے دیگر افراد سے مل جائیں گے۔ لیکن ان پروگرامز کو دیکھ عام افراد صرف تفریح کے لیے جو جرائم کرتے ہیں ان سے بچا جا سکتا ہے۔
     
    محمد یاسرکمال نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں