1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

شہر دل بے شباب ہے کم ہے

'میری شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از سیدعلی رضوی, ‏اگست 20, 2018۔

  1. سیدعلی رضوی

    سیدعلی رضوی یونہی ہمسفر

    شہر دل بے شباب ہے کم ہے
    جتنی حالت خراب ہے کم ہے

    تجھ کو سنگہار کی ضرور ت کیا
    پر ضیا رخ کتاب ہے کم ہے

    اس تجلی پہ پردہ رکھنے کو
    یہ جو رخ پر حجاب ہے کم ہے

    تیری دنیا کے جو دوانے ہیں
    ان کا خانہ خراب ہے کم ہے

    ایک امید دل کی ہے مشکل
    چشم قیدِسراب ہے کم ہے

    زندگی تجھ پہ کیوں مرا جاۓ
    یہ جو جینا عذاب ہے کم ہے

    مہ کشی گر علاج غم ٹھہری
    پھر تو جتنی شراب ہے کم ہے

    اک تخیل سے ہی اس دل کی
    یہ جو حالت خراب ہے کم ہے

    ضبط کا خود پہ ہے اجر لیکن
    جتنا اس کا ثواب ہے کم ہے

    کردو مثلہ ہمارے لاشے کا
    گر یہ حکم جناب ہے کم ہے

    شہر کی تیرگی مٹانے کو
    ہاتھ میں آفتا ب ہے کم ہے

    تم تو شہرِ جنوں کے ہو رضوی
    آنکھ میں ایک خواب ہے کم ہے

    ----------------------

    ابو لویز علی
     

اس صفحے کو مشتہر کریں