1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بے مثال کرامت

'اللہ والے' میں موضوعات آغاز کردہ از بینا, ‏جنوری 17, 2014۔

  1. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    مصر کا دریائے نیل
    --------------------

    امیر المومنین سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں مصر کا دریائے نیل خشک ہوگیا۔ مصری رعایا مصر کے گورنر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں فریاد لے کر حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اے امیر! ہمارا یہ دستور تھا کہ جب دریائے نیل خشک ہوجاتا تھا تو ہم لوگ ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو دریا میں زندہ درگور کر کے دریا کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے۔ اس کے بعد دریا پھر جاری ہوا کرتا تھا اب ہم کیا کریں؟

    گورنر نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اور اسکے رحمت والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رحمت بھرا دینِ اسلام ہرگز ہرگز ایسے ظالمانہ اور جاہلانہ فعل کی اجازت نہیں دیتا تم لوگ انتظار کرو میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو خط لکھتا ہوں وہاں سے جو حکم ملے گا اس پر عمل کیا جائے گا۔
    چنانچہ گورنر کا قاصد مدینہ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آیا اور دریائے نیل خشک ہونے کا حال سُنایا۔ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ یہ خبر سُن کر نہ گھبرائے نہ پریشان ہوئے بلکہ نہایت ہی سکون اور اطمینان کے ساتھ ایک ایسا تاریخی خط لکھا جیسے کوئی انسان دوسرے انسان کو خط لکھ کر اُس سے مُخاطب ہوتا ہے ایسا تاریخی خط دریائے نیل کے نام لکھا جو تاریخ ِ عالم میں بے مثل و بے مثال ہے۔

    الیٰ نیل مصر من عبداللہ عمر بن الخطاب: اما بعد فان کنت تجری بنفسک فلا حاجۃ لنا الیک وان کنت تجری باللہ فانجر علی اسم اللہ۔

    اے دریائے نیل ! اگر تو خود بخود جاری ہوا کرتا تھا تو ہم کو تیری کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہوتا تھا (تو میں امیرالمومنین رضی اللہ تعالی عنہ ہو کر تجھ کو حکم دیتا ہوں) کہ تو پھر اللہ تعالیٰ کے نام پر جاری ہوجا۔
    بحوالہ ، کتاب: ازالۃ الخفاء جلد دوئم صفحہ نمبر ۱۶۶

    امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس خط کو لفافے میں بند کر کے قاصد کو دیا اور فرمایا اس کو دریائے نیل میں ڈال دیا جائے چنانچہ جوں ہی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا خط دریائے نیل میں ڈالا گیا تو دریا فوراً جاری ہو گیا اور ایسا جاری ہوا کہ آج تک خشک نہیں ہوا۔

    اللہ اکبر! یہ دریا کب سے خط پڑھنا سیکھ گیا جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے خط کو پاتے ہی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم کو پاتے ہی جاری ہو گیا، میری سمجھ میں بات یہی آتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایسے سچّے غلام تھے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا حکم دریاؤں پر بھی چلتا تھا۔
    سبحان اللہ کیا بات ہے حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی
     
  2. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    بہت خوب @بینا جی.
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کے چند اور واقعات بھی شئیر کیجئے. ہم منتظر رہیں گے.
     
  3. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    ان شاءاللہ ..... اللہ مجھے مزید ایسی توفیقات عطا فرمائے آمین
     

اس صفحے کو مشتہر کریں