1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

تفسیر قرآن کی ضرورت اور تقاضے ۔ ۔ ۔ از : حافظ ظہیر احمد الاسنادی

'مذاہب' میں موضوعات آغاز کردہ از فارقلیط, ‏نومبر 16, 2014۔

  1. فارقلیط

    فارقلیط یونہی ہمسفر

    قرآن حکیم، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِنسانیت کو عطا ہونے والا آخری اور مکمل صحیفۂ ہدایت ہے جو زِندگی کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک ملتِ اِسلامیہ کی حیاتِ اِجتماعی قرآنی ہدایت کے زیر اثر رہی اور قرآنی ہدایت کی روح کو ملت اسلامیہ نے اپنے پیش نظر رکھا عروج اور غلبہ ان کا مقدر رہا مگر اس ہدایت کو ترک کرتے ہی ان کی عظمت تاریخ کے صفحات کی زینت بن کر رہ گئی۔ ملت اسلامیہ کا یہ زوال بھی دراصل قرآن حکیم کے حق ہونے اور اس کی ہدایت کے اثر انگیز ہونے کی دلیل ہے کہ اس امت کا تمام تر عروج قرآنی ہدایت سے وابستگی میں ہی مضمر ہے۔
    قرآن حکیم اپنے قاری سے تعقل، تفکر اور تدبر کا تقاضا کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
    اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۔
    ’’تو کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں۔‘‘ (محمد، ۴۷: ۲۴)
    قرآن حکیم سے غور و فکر کا یہ تعلق ہی اس سے ہدایت خیزی کا باعث بن سکتا ہے۔
    قرآن حکیم کی صفات میں سے ایک صفت (تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ) (النحل، ۱۶:۸۹) اور (وَ تَفْصِیْل کُلِّ شَیءٍ) (یوسف ۱۲:۱۱۱)کے الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے قرآن ایسی کتاب ہے جو ہر چیز کو تفصیل کے ساتھ خود بیان کرتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن خود واضح اور ہر اَمر کی وضاحت کرنے والی کتاب ہے تو پھر تفسیر کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس سوال کے مختلف جوابات ہیں جن میں سے چند ایک ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں
    ۱۔ تدبر و تذکر
    قرآن کے (تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ) اور (تَفْصِیْل کُلِّ شَیءٍ) ہونے کے باوجود اس کی تفسیر کی ضرورت اس لیے نہیں کہ قرآن مبہم کلام ہے بلکہ اس لیے کہ قرآن خود تدبر و تذکر کا حکم دیتا ہے۔ مطالعہ قرآن کے دو مقاصد ہیں۔ ۱۔تدبر ۲۔تذکر
    اِرشاد خداوندی ہے:
    کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْآ اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَاُولُوا اْلاَلْبَابِ۔ (ص، ۳۸:۲۹)
    ’’(یہ قرآن) برکت والی کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمائی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقل مند لوگ نصیحت قبول کریں۔‘‘
    تذکر کے حوالے سے قرآن یوں گویا ہوتا ہے
    وَلَقَدْ یَسَّرنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکِرْ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ (القمر، ۵۴:۱۷)
    ’’اور بے شک ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے قرآن کو آسان کیا، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا‘‘
    اﷲ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
    اَفَلَم یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَاءَ ہُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ آبَاءَ ہُمُ الاَوَّلِینَO اَمْ لَمْ یَعْرِِفُوْا رَسُوْلَہُمْ فَہُمْ لَہُ مُنْکِرُوْنَO اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ بَلْ جَاءَ ہُمْ بِالْحَقِّ وَ اَکْثَرُہُمْ لِلْحَقِّ کَارِہُوْنَO
    (المؤمنون، ۲۳:۶۸۔۷۰)
    ’’سو کیا انہوں نے اس فرمان (الٰہی) میں غور و خوض نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آ گئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی یا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا سو (اس لئے) وہ اس کے منکر ہو گئے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول) کو جنون (لاحق) ہو گیا ہے (ایسا ہرگز نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر تشریف لائے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے۔‘‘
    مذکورہ بالا قرآنی ارشادات کی روشنی میں تفکر و تدبر کا لازمی تقاضا ہی ضرورتِ تفسیر کا جواز فراہم کرتا ہے۔
    ۲۔ اہل ذکر کی طرف رجوع کرنے کا حکم
    ہر شخص کی ذہنی سطح برابر نہیں ہوتی، قرآن حکیم کے مخاطبین جملہ طبقاتِ انسانی ہیں۔ طبقات انسانی کی علمی و فکری استعدادکے اعتبار سے تین اقسام ہیں
    ۱۔ ادنیٰ ذہنی سطح رکھنے والے۔ ۲۔اوسط ذ ہنی سطح رکھنے والے ۳۔ اعلیٰ ذہنی سطح رکھنے والے
    اس لحاظ سے قرآن میں مختلف مقامات پر مختلف مضامین کے حوالے سے روئے خطاب کہیں کسی سطح کے انسانی طبقہ کے لئے اور کہیں کسی اور سطح کے انسانی طبقوں سے ہے۔ سادہ اور عام فہم آیات سمجھنے کے لئے ادنیٰ و اوسط سطح کے علم و فکر رکھنے والے آدمی کو کوئی دقت نہیں ہو گی مگر اعلیٰ اور اونچی سطح کی قرآنی بات سمجھنے کے لئے اپنے سے زیادہ وسیع علم رکھنے والے شخص کی طرف ادنیٰ و اوسط ذہنیت کے حامل احباب کا رجوع ناگزیر ہوجائے گا۔ اس ناگزیریت کے حوالے سے قرآن خود لوگوں کو صاحبان علم کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    فَسْءَلُوْآ اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَO
    ’’سو تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو۔‘‘ (النحل، ۱۲:۴۳)
    یعنی جو قرآنی علوم و معارف کے بارے میں زیادہ جانتے ہوں ان سے پوچھو۔
    دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
    وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَ اِلآی اُولِی الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ۔ (النساء،۴:۸۳)
    ’’اور اگر وہ( بجائے شہرت دینے کے) اسے رسول اور اپنے میں سے صاحبان امر کی طرف لوٹا دیتے تو ضرور ان میں سے وہ لوگ جو (کسی ) بات کا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں اِس (خبر کی حقیقت) کو جان لیتے ۔‘‘
    اس سے معلوم ہوا کہ ادنیٰ و اوسط ذہنی سطح کے حامل افراد کے لئے علم تفسیر کی ضرورت ناگزیر ہے۔
    ۳۔ اَصح المطالب کی دریافت
    قرآن حکیم کا یہ اعجاز بھی ہے کہ اس کے ہر لفظ کے کئی مفاہیم ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ قرآن حکیم تین حروف پر نازل کیا گیا، بعض روایات میں چار، بعض میں سات اور بعض روایات میں دس حروف کا ذکر ہے:
    حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا
    أنزل القرآن علی ثلاثۃ أحرف۔
    (حاکم، المستدرک، ۲:۲۴۳، رقم: ۲۸۸۴)
    ’’قرآن حکیم تین حروف پر نازل کیا گیا ہے۔‘‘
    حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں:
    أنزل القرآن علی أربعۃ أحرف: حلال وحرام، لا یعذر أحد بالجہالۃ بہ، وتفسیر تفسرہ العرب، وتفسیر تفسرہ العلماء، ومتشابہ لا یعلمہ إلا اﷲ، ومن ادعی علمہ سوی اﷲ فھو کاذب۔(طبرانی، المعجم الکبیر، ۷:۲۰۶، رقم: ۶۸۵۳)
    ’’قرآن کو چار حروف پر نازل کیا گیا: حلال اور حرام، جن کے نہ جاننے میں کسی کو معذور نہیں مانا جائے گا اور ایسی تفسیر جو صرف عرب ہی کر سکتے ہیں اور ایسی تفسیر جو فقط علماء کر سکتے ہیں اور متشابہ آیات جن کو سوائے اﷲ کے کوئی نہیں جانتا اور جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اﷲ کے سوا ان آیات کو جانتا ہے وہ جھوٹا ہے۔‘‘
    حضرت عبداﷲ بن مسعود ص روایت کرتے ہیں:
    أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف: لکل حرف منھا ظھر وبطن (بخاری، الصحیح، ۴:۱۹۰۹، رقم: ۴۷۰۶)
    ’’قرآن پاک سات حروف پر نازل کیا گیا اور ہر حرف کا ظاہری معنی ہے اور باطنی معنی ہے۔‘‘
    حضرت علی ص روایت کرتے ہیں:
    أنزل القرآن علی عشرۃ أحرف: بشیر ونذیر، وناسخ ومنسوخ، وعظۃ و مثل، ومحکم ومتشابہ، وحلال وحرام (ہندی، کنز العمال، ۲:۱۶، رقم: ۲۹۵۶)
    ’’قرآن دس حروف پر نازل کیا گیا: خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، نسخ کرنے والا، منسوخ ہونے والا، نصیحت، امثال، احکام و متشابہات اور حلال و حرام۔‘‘
    اسی لیے امام ابو نعیم اور دیگر ائمہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کا یہ قول نقل کیا ہے:
    القرآن ذلول ذو وجوہ فاحملوہ علی أحسن وجوھہ (آلوسی، روح المعانی۱:۵)
    ’’قرآن نرم اور ذو وجوہ ہے (یعنی اس کے متعدد محامل ہیں) سو اس کو سب سے بہتر محمل پر محمول کرو۔‘‘
    حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ اس حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قول بیان کرتے ہیں:
    قُلْتُ لِعَلِیٍّ ص: ھَلْ عِنْدَ کُمْ کِتَابٌ قَالَ: لَا اِلاَّ کِتَابُ اﷲِ اَوْ فَھْمٌ اُعْطِیَہٗ رَجُلٌ مُّسْلِمٌ۔
    (بخاری ، الصحیح، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم،۱:۵۳، رقم: ۱۱۱)
    ’’میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ فرمایا: نہیں ماسوائے اللہ کی کتاب کے یا وہ فہم جو مسلمان آدمی کو عطا کی جاتی ہے۔‘‘
    پس ان اصح المطالب تک پہنچنے اور اُن سے اپنے ایمان و اسلام کو منور کرنے کے لئے ایسی تفسیر کی ضرورت ہوتی ہے جو ان آیات ربانی میں پنہاں معانی و مفاہیم تک دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق رسائی کو ممکن بناسکے۔
    ۴۔ نبوت کے فرائض منصبی
    قرآن حکیم نبوت کے چہارگانہ فرائض منصبی یوں بیان کرتا ہے:
    یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وِ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔(آل عمران،۳:۱۶۴)
    ’’جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘
    یہ کلمات واضح کرتے ہیں کہ قرآن کا ہر مخاطب مضامینِ قرآن کو سمجھنے پر قادر نہیں۔ اس لئے اللہ کے نبی کو اس امر پر مامور کیا گیاہے کہ لوگوں کو قرآنی احکام کے معانی اور اسرار و رموز سمجھائیں اور حکمت کی باتیں بتائیں۔ حکمت کے حوالے سے قرآن پاک فرماتا ہے:
    وَمَنْ یُّوْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔
    ’’اور جسے (حکمت و) دانائی عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی نصیب ہو گئی۔‘‘ (البقرہ، ۲:۲۶۹)
    حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما حکمت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ
    المعرفۃ القرآن ناسخہ ومنسوخہ ومحکمہ ومتشابھہ ومقدمہ موخرہ وحلالہ وحرامہ وأمثالہ۔
    (آلوسی، روح المعانی، ۱:۵)
     
    بینا اور زبیر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. فارقلیط

    فارقلیط یونہی ہمسفر


    تفسیر قرآن کی ضرورت اور تقاضے ۔2 ۔ ۔ از : حافظ ظہیر احمد الاسنادی

    ’’قرآن کے ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، مقدم و موخر ، حلال و حرام اور اَمثال کی معرفت کو حکمت کہتے ہیں۔‘‘
    مذکورہ بالامعنی میں حکمت کو جاننا گویا تفسیر قرآن کے بنیادی علوم کو جاننا ہے اور جن کو حکمت کی دولت عطا کی جاتی ہے ان کو قرآن کی تفسیر کاملکہ بھی عطا کر دیا جاتاہے جیسے خود حضور نبی اکرم
    صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نےحضرتعبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے حق میں دعا فرمائی۔
    سنن ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے فرمایا:
    ضمنی رسول اﷲA إلیہ وقال: اللھم علمہ الحکمۃ وتأویل الکتاب۔
    (ابن ماجہ، السنن، المقدمہ،باب فضل ابن عباس رضی اﷲ عنہما ، ۱ :۵۸، رقم: ۱۶۶)
    ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے سینے سے لپٹا کر فرمایا: اے اللہ اسے دانائی اور قرآن کے مطالب سکھا دے۔‘‘
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمرص نے ابن عباس رضی اﷲ عنہما کو اپنے پاس بلایا اور انہیں اپنے قریب کیا اور فرمایا:
    انی رأیتُ رسول اﷲA دعاک یوما فمسح رأسک وقال: اللھم فقھہ فی الدین وعلمہ التاویل۔
    (ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، ۱:۱۷۰)
    ’’ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے ایک دن آپ کو بلایا پھر آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا: اے اللہ! اِس کو دین کی فقہ عطا فرما اور اس کو تاویل کا علم عطا فرما۔‘‘
    حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے ایک اور روایت مروی ہے کہ حضرت عمرص نے عبداللہ بن عباسص کو اپنے قریب بلایا اور انہیں فرمایا:
    أنی رأیت رسول اﷲA دعاک یوما فمسح رأسک وتفل فی فمک وقال: اللھم فقہہ فی الدین وعلمہ التأویل۔ (ذھبی، سیر اعلام النبلاء، ۳:۳۳۷)
    ’’ میں نے دیکھا کہ ایک دن حضور نبی اکرم نے آپ کو بلایا اور آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر آپ کے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور کہا: اے اللہ! اِسے دین میں فقہ عطا فرما اور اِسے تاویل کا علم سکھا۔‘‘
    یہی وجہ ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کو حکمت و دانائی کی ایسی وافر دولت نصیب ہوئی کہ وہ تاریخ اسلام میں سید المفسرین کے لقب سے شہرت دوام پا گئے۔ جن ہستیوں کو قرآن کایہ علم عطا کیا گیا انہیں مبداء فیض نے حکمت کے خزینے سے نوازا اور علم و حکمت کی بنیاد پر جب بصائر و معارف قرآن جاننے کی طرح ڈالی گئی تو علم و حکمت کی تعلیم گویا تفسیرِ قرآن کی تعلیم قرار پائی۔
    ۵۔ اَمثالِ قرآن
    قرآن پاک میں اِرشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلْنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَO (العنکبوت، ۲۹:۴۳)
    ’’اور یہ مثالیں ہیں ہم انہیں لوگوں (کے سمجھانے ) کے لیے بیان کرتے ہیں اور انہیں اہل علم کے سواکوئی نہیں سمجھتا۔‘‘
    عام طور پر کسی بات کی وضاحت یا توضیح کے لئے مثال بیان کی جاتی ہے کہ بات آسانی سے سمجھی جاسکے۔ مذکورہ آیت میں بیان کیا جارہا ہے کہ ان قرآنی امثال کو سمجھنے والے صرف علماء ہیں اور وہی اپنی عقل و بصیرت سے ان کی حقیقت کوسمجھ سکتے ہیں اور دوسرے لوگ اسے جاننے کے لئے ان علماء کے محتاج ہوں گے۔ یہی چیزضرورتِ تفسیر کا سبب بنی۔ اہم بات یہ ہے کہ مثال بیان کرنے کا مقصد کسی چیز کو آسان انداز میں سمجھانا ہوتا ہے اگر کسی عام فہم بات کو مثال کے ذریعے سمجھانے میں علماء کا دست نگر ہونا پڑتا ہے تو پھر مشکل مقامات کی تشریح و توضیح کے لئے تفسیر کی ضرورت بدرجہ اولیٰ ہوئی۔
    ۶۔ تفسیر قرآن۔ سنتِ رسولA
    قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور صحابہ کرامث کے لئے صاحب زبان ہونے کی وجہ سے ظاہری احکام کو جان لینا زیادہ آسان تھا مگر پھر بھی احکام قرآنی کے باطنی اسرار و حکم اور مصالح و حقائق سب پر منکشف نہ تھے۔ غورو فکر اور تامل و تفکر کے باوجود انہیں حضور نبی اکرمA سے استفسار کرنا پڑتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ استفسار کے بغیر حقائق قرآن کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
    اس نکتے کی تفہیم کے لئے ذیل میں دو واقعات پیش کئے جا رہے ہیں:
    ۱۔ امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ جب قرآن حکیم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ اَلَّذِیْنَ اٰ مَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ۔
    ’’جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔‘‘ (الانعام، ۶:۸۲)
    صحابہ کرام ص نے حضورA سے دریافت کیا ’’وأینا لا یظلم نفسہ‘‘ (اور ہم میں سے کون ہے جس نے اپنی جان پرظلم نہیں کیا) اس پر حضور نبی اکرمA نے ظلم کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد شرک ہے اور اس آیت سے استدلال فرمایا: (اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) (لقمان: ۳۱:۱۳) ’’اور بے شک شرک ظلمِ عظیم ہے‘‘۔
    (ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب التفسیر القرآن، باب: ومن سورۃ الأنعام، ۵: ۲۶۲، رقم: ۳۰۶۷ )
    معلوم ہوا کہ قرآن کی تفسیر کرنا سنت رسولA ہے۔ اسی طرح جب قرآن حکیم کی یہ آیت اتری:
    وَکُلُوْا وَا شْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِO
    ’’اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہوکر) نمایاں ہو جائے۔‘‘ (البقرۃ، ۲:۱۸۷)
    مذکورہ بالا آیت کی وضاحت طلبی جامع الترمذی کی درج ذیل روایت سے ضرورتِ تفسیر کو مزید واضح کر دے گی:
    عن عدی بن حاتم ص قال: سالت رسول اﷲA عن الصوم فقال: حتی یتبین لکم الخیط الأبیض من الخیط الأسود قال: فأخذت عقالین أحدھما أبیض والأخر أسود فجعلت أنظر إلیھما فقال لي رسول اﷲA: إنما ہو اللیل والنھار۔
    (ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب التفسیر القرآن، باب: ومن سورۃ البقرۃ، ۵:۲۱۱، رقم: ۲۹۷۱)
    ’’حضرت عدی بن حاتم ص سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرمA سے روزہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی (حَتیّٰ یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الخَیْطُ الْاَ بْیضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ) تو میں نے سفید اور سیاہ دو دھاگے لئے اور انہیں دیکھنے لگا پس حضور نبی اکرمA نے مجھ سے فرمایا: اِس سے دن اور رات مراد ہیں۔‘‘
    اگر اہل زبان صحابہ کرام ث کو فیضان صحبت نبویA اور مشاہدۂ نزول قرآن سے بہرہ ور ہونے کے باوجود قرآن کی تفسیر کی ضرورت تھی تو پھر ہمیں جو اہل زبان نہیں اور اسرار و معارف قرآن سے کماحقہٗ آگاہ بھی نہیں فہم قرآن کے لئے علم تفسیر کی ضرورت کیوں نہ ہو گی۔
    حضور اکرم اور صحابہ کرام سے منقول تفسیری روایات کا علم! کلام کا اصل مفہوم و مراداولاً خود صاحب کلام سے سُن کر سمجھ میں آتا ہے۔
    کلام کا اصل مفہوم و مراد اولاً خود صاحبِ کلام سے سن کر سمجھ میں آتا ہے جیسے حضور نبی اکرمA کے لئے ممکن تھا لیکن ہمارے لئے یہ ممکن نہیں۔ ثانیاً سننے والے صاحب قرآن کی زبان سے براہ راست سن کر کلام کا مرادی مفہوم سمجھ لیتے جیسے صحابہ کرام ص کے لئے یہ ممکن تھا لیکن ہمارے لئے یہ ممکن نہیں۔
    لہٰذا قرآن کو سمجھنے کے لئے حضورA اور صحابہ کرامؓ سے منقول تفسیری روایات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان منقول روایات کو جانچنے پرکھنے کا علم، علم تفسیر کا متقاضی ہے۔


     
    بینا اور زبیر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. فارقلیط

    فارقلیط یونہی ہمسفر

    تفسیر قرآن کی ضرورت اور تقاضے ۔3 ۔ ۔ از : حافظ ظہیر احمد الاسنادی


    نابغہ عصرشیخ الاسلام مفسر قرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنے عہد کے دانش شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے جہاں دیگر بے شمار تصنیفات کیں وہاں ان کے ترجمہ قرآن ’’ عرفان القرآن‘‘ اور ان کی تفسیر’’ منہاج القرآن‘‘ کو جدید تفاسیر میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ کی تفسیر منہاج القرآن سورہ فاتحہ (جزو اول) اور تفسیر منہاج القرآن (سورہ بقرہ) منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن کی اہمیت و افادیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
    شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا قرآن حکیم کے الوہی بیان کا لغوی، نحوی، ادبی، علمی، اعتقادی، فکری، سائنسی، تفسیری اور جملہ پہلوؤں پر مشتمل جامع، عام فہم اور نادر ترجمہ ’’عرفان القرآن‘‘ اور ’’تفسیر منہاج القرآن‘‘ دور جدید کے تقاضوں سے مکمل آہنگی رکھتے ہیں۔ ان کے ترجمہ ’’ عرفان القرآن‘‘ اور مطبوعہ تفسیرمنہاج القرآن سورہ فاتحہ (جزو اول) اور تفسیرمنہاج القرآن (سورہ بقرہ) کی چند ایک خصوصیات حسب ذیل ہیں:
    ۱۔ تفسیری شان اور فکری معنویت
    ۲۔ ادب الوہیت اور احترام بارگاہ نبوت
    ۳۔ عقلی تفکر اور علمیت
    ۴۔ روحانی حلاوت اور قلبی تذکیر
    ۵۔ سائنسی تحقق اور نظری جدت
    ۶۔ اسلوب بیان کی ندرت
    آج یہ ترجمہ و تفسیر عصر حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کے عین مطابق اہلِ علم اور عوام الناس کے لئے رہنمائی کا باعث بن رہی ہے اور اپنے اندر تفسیر کے جملہ تقاضوں کو سموئے ہوئے ہے۔




     
    Last edited: ‏نومبر 18, 2014
    بینا اور زبیر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. فارقلیط

    فارقلیط یونہی ہمسفر

     
    Last edited: ‏نومبر 16, 2014
  5. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    یونہی کے دامن میں بیش قیمت علم کے موتی سجانے پر ہم رحمانی بھیا کے ممنون ہیں
    جزاک اللہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں